غزل 

"غزل "وصی شاہ"  اور "ندرت زمن (کنول)


 گنگناتے ہوئے آنچل کی ہَوا دے مجھ کو

اُنگلیاں پھیر کے بالوں میں سلادے مجھ کو


جس طرح فالتو گلدان پڑے رہتے ہیں

اپنے گھر کے کسی کونے سے لگا دے مجھ کو

یاد کر کے مجھے تکلیف ہی ہوتی ہوگی

ایک قصہ ہوں پُرانا سا بھُلا دے مجھ کو


ڈوبتے ڈوبتے آواز تری سُن جائوں

آخری بار تو ساحل سے صدا دے مجھ کو


مَیں ترے ہجر میں چُپ چاپ نہ مر جائوں کہیں

مَیں ہوں سکتے میں کبھی آکے رُلا دے مجھ کو


دیکھ میں ہوگیا بدنام کتابوں کی طرح

میری تشہیر نہ کر اَب تو جلا دے مجھ کو


روٹھنا تیرا میری جان لئے جاتا ہے

ایسے ناراض نہ ہو، ہنس کے دِکھا دے مجھ کو


اور کچھ بھی نہیں مانگا میرے مالک تجھ سے

اس کی گلیوں میں پڑی خاک بنا دے مجھ کو


لوگ کہتے ہیں کہ یہ عشق نگل جاتا ہے

مَیں بھی اس عشق میں آیا ہوں، دُعا دے مجھ کو


یہی اوقات ہے میری تیرے جیون میں کہ میں

کوئی کمزور سا لمحہ ہوں، بھُلا دے مجھ کو

وصی شاہ

•••••••••••••••

 جواب غزل

BY

"ندرت زمن (کنول)

تجھ کو اپنا میں بناؤں تو بناؤں کیسے 

مسلے کیا ہیں میرے تجھ کو بتاؤں کیسے


تجھکو خواہش ہے میرے گھر کے کسی گوشے کی

گھر میں کوئ شیلف نہیں تجھکو سجاؤں کیسے


میرے آنچل میں کوئ پھو ل نہیں شعلے ہیں 

تجھکو اس آگ میں ہائے میں جلاؤں کیسے


اب نہ وہ روپ نا ہی عمر ناخواہش ہے کوئی 

اپنے سوئے ہوئے جزبوں کو جگاؤں کیسے


تو میری جان میرے ہجر میں روتا کیوں ہے

ساتھ ہر پل ہوں تیرے تجھکو بتاؤں کیسے


تو ہے چندہ میرے امبر کا تو ہی تارا ہے

اپنی گلیوں کی تجھے خاک بناؤں کیسے


مجھ سی ناچیز کی خاطر نا ہو کر بدنام

تیرے ہستے ہوئے جیون کو رولاؤں کیسے


میرے دامن میں تو کانٹوں کے سوا کچھ بھی نہیں

پھر تجھے گود میں اپنی مری جاں میں سلاؤں کیسے


ہے تیری چاہ میرے ساتھ سدا چلنے کی

میں سمندر تو ہے ساحل یہ بھلاؤں کیسے


گر خوشی ہوتی تو لے آتی میں پاس تیرے

درد ء سوغات تیرے در میں میں لاؤں کیسے


ہائےاس دل میں ہیں چاھت کے فسانے کیا کیا

کوئی پوچھے تو سہی خود سے بتاؤں کیسے

رات ہے چاند ہے تنہائی اور یاد تیری

جزب ء شدت ہے تجھے پاس بلاؤں کیسے


چار جانب سے میرے ہاتھ بندھے ہیں اے کنول

رسم ء الفت کو نبھاؤں تو نبھاؤں کیسے

ندرت زمن(کنول)

***********************

 غزل شاعر وصی شاہ اور ندرت زمن(کنول).   ندرت زمن(کنول) کی غزل  وصی شاہ صاحب کی غزل کے جواب میں پیش کی گئی ھے اسی لیے دونوں غزلیں اکٹھی آپ کی پیش خدمت ہیں